Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
اشفاق عامر
نظم
غزل
اس سروِ خراماں کا در اصل ہے گھر دل میں
یہیں کہیں کوئی سایہ اداس پھرتا تھا
اپنی وحشت سے جو ڈرتا ہی چلا جاتا ہے
تیرے احساس میں در آیا ہوں
یار کی خوشبو ہے رستہ شام کا
درد کی ندی میں ہے خواب کا پانی زندہ
بہت حسین تھے تم اور بہت جواں تھے ہم
ہے میرے خواب میں باغِ جمال کی خوشبو
مجھے اداس بھی کرتے رہے مرے اندر
آنکھ کا نور بھی کھو جائے ستارہ نہ ملے
زندگی کوئی سزا ہے نہ جزا ہے اےدوست
بگڑی ہے اگر بات بنا کیوں نہیں دیتے
شہر خالی ہو گئے ویراں ہوئے بازا ر بھی